خطرات و خدشات از ڈاکٹر اسرار احمد: مکمل تجزیہ اور خلاصہ
(پاکستان کے مستقبل، نظریاتی انحراف اور الٰہی پکڑ کے قانون کا بیان)
ڈاکٹر اسرار احمد کی یہ کتاب کوئی عام سیاسی تجزیہ نہیں، بلکہ یہ ایک دردِ دل رکھنے والے مفکر کی جانب سے اپنی قوم کو جگانے کی ایک بھرپور کوشش ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے پاکستان کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کس طرح ہم نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ توڑ دیا ہے اور اب ہم کس طرح قدرت کی پکڑ کی زد میں ہیں۔
**باب اول: پاکستان کا قیام اور اللہ سے وعدہ**
ڈاکٹر صاحب کتاب کا آغاز اس بنیادی نکتے سے کرتے ہیں کہ پاکستان کا قیام کوئی عام تاریخی واقعہ نہیں تھا۔ یہ دنیا کی واحد ریاست تھی جو صرف اور صرف "لا الہ الا اللہ" کی بنیاد پر وجود میں آئی۔ ڈاکٹر صاحب یاد دلاتے ہیں کہ برصغیر کے مسلمانوں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر ہمیں آزادی ملی تو ہم یہاں اللہ کا نظام نافذ کریں گے۔
وہ لکھتے ہیں کہ یہ خطہ ایک "لیبارٹری" کے طور پر حاصل کیا گیا تھا تاکہ اسلام کے اصولوں کو جدید دور میں آزما کر دکھایا جا سکے۔ لیکن افسوس کہ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہم اس مقصد کو بھول گئے۔ ہم نے انگریز کے جانے کے بعد اسی کے نظام کو گلے لگا لیا۔ یہ "وعدہ خلافی" ہی ہمارے تمام موجودہ مسائل اور خطرات کی جڑ ہے۔
**باب دوم: بنی اسرائیل اور امتِ مسلمہ کا موازنہ**
ڈاکٹر اسرار احمد کا یہ خاص موضوع رہا ہے کہ وہ امتِ مسلمہ (خاص طور پر پاکستان) کا موازنہ بنی اسرائیل (یہودیوں) سے کرتے ہیں۔ اس کتاب میں بھی وہ تفصیل سے بتاتے ہیں کہ جس طرح بنی اسرائیل کو اللہ نے فضیلت دی، انہیں نعمتوں سے نوازا، لیکن جب انہوں نے اللہ کے احکامات سے روگردانی کی تو ان پر ذلت اور مسکنت تھوپ دی گئی۔
ڈاکٹر صاحب خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے مسلمان بھی اسی روش پر چل رہے ہیں۔ ہم نے بھی کتاب اللہ (قرآن) کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور صرف رسمی مسلمان بن کر رہ گئے ہیں۔ وہ متنبہ کرتے ہیں کہ اللہ کا قانونِ مکافاتِ عمل اٹل ہے۔ اگر ہم نے توبہ نہ کی اور اپنی اصلاح نہ کی، تو ہم پر بھی وہی عذاب آ سکتا ہے جو بنی اسرائیل پر آیا تھا۔
**باب سوم: اندرونی خلفشار اور فرقہ واریت**
کتاب میں پاکستان کے اندرونی حالات کا بہت باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ قوم لسانی، صوبائی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ہو چکی ہے۔
1. **فرقہ واریت:** مذہبی جماعتیں اسلام کے نفاذ کی بجائے اپنے اپنے فرقوں کے دفاع میں لگی ہوئی ہیں۔ مسجدیں جو وحدت کا مرکز ہونی چاہیے تھیں، وہ تفرقے کا باعث بن گئی ہیں۔
2. **اخلاقی زوال:** معاشرے میں سود، بے حیائی، جھوٹ اور دھوکہ دہی عام ہو چکی ہے۔ حلال و حرام کی تمیز ختم ہو گئی ہے۔
3. **سیاسی نظام:** ڈاکٹر صاحب کے نزدیک موجودہ جمہوریت اور انتخابی سیاست (Electoral Politics) اس مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کا حصہ ہے۔ وہ اسے مغرب کا دیا ہوا نظام سمجھتے ہیں جو اسلام کی روح کے منافی ہے۔
**باب چہارم: عالمی سازشیں اور نیو ورلڈ آرڈر**
ڈاکٹر اسرار احمد نے اس کتاب میں عالمی جیپولیٹکس (Geopolitics) پر بھی گہری نظر ڈالی ہے۔ وہ "نیو ورلڈ آرڈر" (New World Order) کو دجالی فتنہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مغربی طاقتیں، خاص طور پر امریکہ اور صیہونی لابی، کبھی نہیں چاہیں گی کہ پاکستان ایک حقیقی اسلامی ایٹمی قوت بنے۔
وہ ان خدشات کا اظہار کرتے ہیں کہ:
* بھارت کو پاکستان کے خلاف مضبوط کیا جا رہا ہے۔
* پاکستان کی معیشت کو آئی ایم ایف (IMF) اور ورلڈ بینک کے شکنجے میں کس کر اسے غلام بنایا جا رہا ہے۔
* ہماری ثقافت کو میڈیا کے ذریعے تباہ کیا جا رہا ہے تاکہ ہماری نئی نسل اسلام سے بیگانہ ہو جائے۔
**باب پنجم: بھارت کا اکھنڈ بھارت کا خواب**
ڈاکٹر صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بھارت نے کبھی بھی پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ وہ "اکھنڈ بھارت" کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ (1971ء) اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، اور اب باقی ماندہ پاکستان بھی ان کے نشانے پر ہے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ اگر ہم اندرونی طور پر مضبوط نہ ہوئے تو خدانخواستہ پاکستان کے مزید ٹکڑے ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
**باب ششم: نظامِ خلافت اور اقامتِ دین کی جدوجہد**
تمام تر خطرات اور مایوسیوں کے ذکر کے بعد، ڈاکٹر اسرار احمد امید کا راستہ بھی دکھاتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان تمام مسائل کا واحد حل **"اقامتِ دین"** ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ محض نماز روزے سے کام نہیں چلے گا، بلکہ ریاست کے اجتماعی نظام (سیاست، معیشت، عدالت) کو قرآن و سنت کے تابع کرنا ہوگا۔ وہ نوجوانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ مغرب کی مرعوبیت سے نکلیں اور ایک منظم جماعت (تنظیم) کی صورت میں خلافت کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
**باب ہفتم: اجتماعی توبہ کی ضرورت**
کتاب کے آخر میں ڈاکٹر صاحب ایک بہت جذباتی اپیل کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ابھی بھی وقت ہے کہ بحیثیت قوم ہم "اجتماعی توبہ" کریں۔ اللہ سے اپنے گناہوں اور وعدہ خلافیوں کی معافی مانگیں اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا عہد کریں۔
اگر ہم نے ایسا نہ کیا، تو ڈاکٹر صاحب کے الفاظ میں: "مجھے ڈر ہے کہ کہیں ہم اللہ کے عذاب کی آخری قسط کا شکار نہ ہو جائیں۔" ان کی تحریر میں ایک درد، ایک کسک اور ایک تڑپ ہے جو پڑھنے والے کے دل میں اتر جاتی ہے۔
**اختتامیہ:**
"خطرات و خدشات" دراصل ایک چارج شیٹ بھی ہے اور ایک روڈ میپ بھی۔ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان کا بقا صرف اور صرف اسلام سے وابستہ ہے۔ اگر ہم نے اسلام کا دامن چھوڑ دیا، تو دنیا کے نقشے پر ہمارا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔
.jpg)